READ THE MESSAGE IN ENGLISH HERE

تحریر از شیخ اسرار رشید

بھارتی فوج نے پاکستان کی سرحدوں پر اجماع کیا ہے اور مقبوضہ کشمیر پر ظلم و جبر اور گرفت میں اضافہ کیا ہے۔ جب یہ واقع ہو رہا ہے تو پاکستان کے “صوفی” علماۓ کرام، جو اکثریت میں ہیں، اِس بات میں مصروف ہیں جس کو یہ کلام کا مسلۂ خیال کرتے اور قرار دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ کلام کے معاملات نہیں بلکہ تفرقہ و اختلافی مسائل ہیں۔

ہمارے پاس ایک ایسی عوام ہے جو موضوع کے ایک طرف دنیاوی سوچ کے دباؤ میں ہے اور دوسری طرف دیہی اور شہر کے لوگ ایک جیسے ہیں جو لوگ داستانوں “تصوف” کے ساتھ مذہب سے توہم پرست رویہ رکھتے ہیں۔ علماۓ کرام کو تمام شعبوں میں اللّٰہ کی صفات اور ان کے دلائل کی تعلیم دینے میں مصروف رہنا چاہیئے, خاص طور پر وجود کیونکہ بہت سارے لا دینی کم علم پاکستانی خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ ان بنیادی عقائد کو بڑے پیمانے پر پڑھایا جا سکتا ہے۔ ان میں شامل:

ا)۔اللّٰہ کی بیس صفات جو لازمی طور پر سچ ہیں: ۱)۔ وجود ؛ ۲)۔ ابتدا نہ ہونا ؛ ۳)۔ انتہا نہ ہونا ؛ ۴)۔مستقل، غنی، بے نیاز و لا محتاجی ؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی جگہ یا کسی شیئ پر موقوف ہونے کی کوئی ضرورت و حاجت نہ ہو اس کی وجود کے لئے؛ ۵)۔ پیدا کردہ اشیاء سے مشابہت نہ ہونا؛ ۶)۔ انفرادیت، جس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کی ذات، صفات یا اعمال میں شریک نہ ہو؛ ۷)۔ قادرِ مطلق؛ ۸)۔ ارادہ؛ ۹)۔ علم ؛ ۱۰)۔ حیات؛ ۱۱)۔ سماعت؛ ۱۲)۔ بصارت؛ ۱۳)۔ کلام، اس طرح جیسے وہ ہے؛ ۱۴)۔ سب پر قادر؛ ۱۵)۔ سب کے لیے ارادہ رکھنے والا؛ ۱۶)۔ سب جاننے والا؛ ۱۷)۔ زندہ؛ ۱۸)۔ سمیع – سب سننے والا؛ ۱۹)۔ بصیر – سب دیکھنے والا؛ ۲۰)۔ اور کلام کرنا – اپنی قدرت، ارادہ، علم، حیات، سماعت، بصارت، اور کلام کے اوصاف سے صرف، نہ کہ مخص اس کی ذات و وجود کے ذریعے۔

ب)۔ اللّٰہ کی بیس صفات (۴۰-۱۲) لازمی طور پر محال ہیں، جو پہلے والی بیس کے برعکس ہیں، جیسے عدم وجود، ابتدا، انتہا، وغیرہ۔

ج)۔ اللّٰہ کی صرف ایک صفت (۴۱) ممکن ہے، وہ یہ ہے کہ وہ ہر ممکن چیز کو تخلیق یا ختم کر سکتا ہے۔

بدقسمتی سے عوام کو یہ نہیں سکھایا جاتا اور نہ ہی ایسی چیزوں کے بنیادی ثبوت بھی۔ اس کے بجائے ، انہیں کہا جاتا ہے کہ نعرے لگانا عقیدہ ہیں اور انہیں نعرے سیکھنے چاہئیں اور انہیں آگ کی طرح بھڑک اٹھ کر پکارنا چاہئے۔ عوام کو یہ سوچنے کے لئے منضبط کیا گیا ہے کہ کچھ امور لازمی ہیں جب کے وہ نہیں ہیں۔ ایسے مسائل ہیں جو عوام کے سامنے لائے جارہے ہیں جو متنازعہ ہیں اور فیصلہ کن نہیں ہیں، ابھی تک ’’ علمائے کرام ‘‘ اور ان کے پیروکار اس کو ایک لازمی عقیدہ بناتے ہیں۔ اس کی حد آپ جن نعروں کا انتخاب کرتے ہیں ، کائنات کا ارضِ مرکزی نمونہ اور ساکن زمین، فدک، جمل اور صیفن کے بارے میں ایک ایسی عوام سےگفتگو کرنا جو عقیدہ کی بنیادی باتوں کو مشکل سے جانتی ہے یا ان کو اہل بیت (نبی ﷺ کا پاک گھرانہ) یا صحابہ کرام کی خوبیوں کے بارے میں عام طور پر بھی کبھی نہیں بتایا گیا ہے۔ عوام کو مجلسوں میں بٹھایا جائے جہاں فضائل سمیت اِن تمام امور پر مستند حدیث پڑھی جائیں۔

بہت سارے لوگ ناراض ہوجائیں گے اگر کسی شخص نے “فلاں” عظیم عالم کو کائنات کے ارضِ مرکزی نمونہ پر غلط کہا ہو۔ تو یہ کتنا ناگوار محسوس ہوسکتا ہے جب کسی سے  غلطی متصف ہو جو کہ بے حد افضل ہو اور آپ جانتے ہو کہ سننے والے سامعین فقہ کی باریکیاں و پیچیدگیاں اور کلام کے اصطلاحات و ابحاث کو نہیں سمجھ سکتے ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ یہاں کوئی توازن نہیں ہے اور لوگ ہر طرف سے شدت لینا پسند کرتے ہیں۔

ایک اور افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ جو ’’ علمائے کرام ‘‘ کی حیثیت سے پیش آرہے ہیں وہ عربی پڑھنے اور سمجھنے کا طریقہ نہیں جانتے ہیں جو ہمارے مذہب کی زبان ہے۔ وہ محض اردو کی کتابیں پڑھتے ہیں اور پھر بھی متنازعی و مختلف فیہ (یعنی اختلافی) معاملات پر اور پھر وہ مسلمانوں کی تکفیر کرنے کے لئے بھاگتے ہیں جن سے وہ متفق نہیں ہیں۔ وہ جو عربی زبان کا مطالعہ کرتے ہیں اپنے آپ کو درس نظامی نصاب کی کتابوں تک محدود رکھتے ہیں اور آس پاس پڑھنے کو نہیں دیتے ہیں۔

یہ وہ وقت ہے جب پاکستان اور ہندوستان میں ام البراھین (عقیدہ سنوسی) کی تعلیم دی جائے۔

امام غزالی (قدس سرہ الربانی) نے ہمارے حال بے حال زمانہ کے ساتھ مناسبت رکھنے والی چیز فرمائی ہے جب وہ ابحاث کلام میں اختلافات کے خطرناک اثرات کے بارے میں انتباہ کیا:

علم کلام کے نقصانات ۔ اس علم کی وجہ سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ یقین اور پختگی رخصت اور عقائد متزلزل ہو جاتے ہیں اور یہ وہ نقصانات ہیں جن کا صدور اس علم کی ابتدا ہی میں ہو جاتا ہے اور دلیل پاکر دوبارہ عقائد کی پختگی پالینا بھی یقینی نہیں ہوتا۔ نیز لوگوں کی حالت بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ لہذا اس علم کا ایک نقصان عقائد حقہ (یعنی درست عقائد) میں خلل ڈالنا ہے۔

اہل بدعت اپنے بدعتی عقیدوں پر جم جاتے ہیں اور بدعت ان کے سینوں میں یوں قرار پکڑ لیتی ہے کہ وہ اسی کے وہ کر رہ جاتے اور اسے پر مصر رہتے ہیں۔ لیکن علم کلام کی وجہ سے پیش آنے والا یہ نقصان اس تعصب کا نتیجہ ہوتا ہے جو جدل و مناظرہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عام بدعتی کو اس کی بد عقیدگی سے توبہ کرانا آسان اور جلد ممکن ہوتا ہے۔ ہاں! اگر اس کی نشونما جدل اور تعصب زدہ علاقے میں ہو تو پھر خواہ اگلے پچھلے سب لوگ جمع ہو کر اس کے سینے کو بدعت سے پاک کرنا چاہیں تو نہ کر پائیں بلکہ خواہش نفس، تعصب اور مناظرین و مخالفین کی مخالفت اس کے دل کو اپنے قبضے میں لے لیتی اور اسے قبول حق سے روک دیتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس بدعتی کے لیے بھی ممکن ہو جائے کہ اللہ عزوجل کی برف سے اس کی آنکھوں سے پردے ہٹا کر اس پر حق کر دیا جائے اور اسے بتا دیا جائے کہ دوسری جانب والے ہی اہل حق ہیں، تو پھر بھی وہ ناخوش ہی ہوگا کیونکہ اب اسے یہ ڈر رہے گا کہ اس بات سے اس کا مخالف خوش ہو جائے گا۔ یہ فساد کی ایک قسم اور بھیانک بیماری جو متعصب مناظرین کی وجہ سے شہروں اور لوگوں میں پھیلتی جارہی ہے۔ یہ بھی علم کلام کا ایک نقصان ہے۔

علم کلام کے فوائد – (یہ گمان کیا جاتا ہے کہ) اس کے ذریعے حقائق کی وضاحت اور ماہیت کی معرفت حاصل ہوتی ہے مگر افسوس کہ یہ عظیم مقصد اس سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ وضاحت و معرفت کے بجائے دیوانگی و گمراہی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ علم کلام کی مذمت اگر کوئی محدث کرے یا کوئی بے علم شخص اس کے خلاف بولے تو وسوسہ آسکتا ہے کہ لوگ جس چیز کا علم نہیں رکھتے اس کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ تو سنۓ! یہ مذمت وہ شخص کر رہا ہے (امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الولی اپنی طرف اشارہ کر رہے ہیں) جس نے علم کلام اور اس کے متعلقات کو خوب اچھی طرح پرکھا اور چوٹی کے ماہرین علم کلام کے درجوں تک پہنچا لیکن نتیجہ یہی معلوم ہوا کہ اس طرف سے آنے والوں کے لۓ حقائق کے دروازے بند ہیں۔

میری عمر کی قسم، علم کلام کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے بعض امور منکشف، واضح اور معروف ہو جاتے ہیں لیکن اس کا وقوع بہت کم اور ان ظاہری امور تک محدود ہے جن کی توضیح علم کلام میں غوروفکر کے بغیر بھی ممکن ہے۔

اس سے عوام کے لیے ہمارے بیان کردہ عقائد کی حفاظت ہوتی اور بدعتوں کے مناظروں سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات سے بھی بچا سکتا ہے۔ کیونکہ ایک عام آدمی کمزور ہوتا ہے اور وہ بدعتی کی مناظرانہ گفتگو کا محض زبانی کلامی جواب دینے کے لیے پر جوش ہوتا ہے اگرچہ یہ فاسد رویہ ہے اور فاسد رویے سے ہی فاسد کا مقابلہ اسے دور کر سکتا ہے۔ نیز عام لوگ ہمارے بیان کردہ عقائد کو ہی اپناتے ہیں اس لئے کہ شریعت نے انہی عقائد کو بیان کیا اور سلف صالحین رحمهم الله المبين نے بھی یہی عقائد اپنائے کیونکہ انہی عقائد میں سب کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔

(احیاء العلوم، ج ۱، ص ۸۶)

Share this with your family & friends: